Table of Contents
موٹر سائیکلز پر ایم ٹیگ سٹیکر سے متعلق اہم پیش رفت
موٹر سائیکلز پر ایم ٹیگ سٹیکر کی چوری کے خدشات کے پیش نظر ڈی جی ایکسائز نے اہم بیان جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایم ٹیگ میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں جو جعلی یا غیر متعلقہ استعمال کو فوری پکڑ سکتے ہیں۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق مختلف ناکہ جات پر جدید ریڈرز نصب ہیں جہاں ایم ٹیگ کی اسکیننگ کے ذریعے بائیک نمبر، رجسٹریشن ڈیٹا اور مالک کی معلومات فوری طور پر ویریفائی کی جاتی ہیں۔
ایم ٹیگ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
ایم ٹیگ سسٹم جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس کے تحت:
- ہر ایم ٹیگ منفرد کوڈ سے منسلک ہوتا ہے
- اسکیننگ کے دوران بائیک نمبر سے مماثلت چیک کی جاتی ہے
- مالک کی تفصیلات فوری طور پر ویریفائی کی جاتی ہیں
- غیر رجسٹرڈ یا غیر متعلقہ ایم ٹیگ فوری شناخت ہو جاتا ہے
حکام کے مطابق اگر کوئی شخص کسی اور موٹر سائیکل کا ایم ٹیگ استعمال کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
غیر متعلقہ ایم ٹیگ استعمال کرنے پر کیا ہوگا؟
ڈی جی ایکسائز کے مطابق غیر متعلقہ ایم ٹیگ پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ یہ قدم سسٹم کے غلط استعمال کو روکنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں ایم ٹیگ سٹیکر چوری کی شکایات سامنے آئی تھیں۔

ایم ٹیگ سٹیکر چوری ہو جائے تو کیا کریں؟
اگر آپ کا ایم ٹیگ سٹیکر چوری ہو جائے تو فوری طور پر درج ذیل اقدام کریں:
- اپنے رجسٹرڈ موبائل نمبر سے 1313 پر کال کریں
- ایم ٹیگ کو فوری بلاک کروائیں
- قریبی ایکسائز آفس سے نیا ٹیگ حاصل کریں
اہم بات یہ ہے کہ دوبارہ ایم ٹیگ لگوانے کی صورت میں کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
شہریوں کے لیے ہدایات
- ایم ٹیگ کو محفوظ جگہ پر چسپاں رکھیں
- کسی غیر مجاز شخص کو ٹیگ نہ دیں
- چوری یا گمشدگی کی صورت میں فوری اطلاع دیں
- کسی دوسرے بائیک کا ٹیگ استعمال نہ کریں
کیوں یہ خبر اہم ہے؟
یہ اقدام شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور گاڑیوں کی درست شناخت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ جدید اسکیننگ سسٹم کی بدولت جعلی یا چوری شدہ ایم ٹیگ کا استعمال مشکل ہو چکا ہے۔
محکمہ ایکسائز کا کہنا ہے کہ یہ نظام سڑکوں پر شفافیت، سیکیورٹی اور قانون کی عملداری کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔