اسلام آباد: بھارتی جارحیت کے نتیجے میں 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستانی سرزمین پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی افواج نے بلا اشتعال، وحشیانہ اور قابل مذمت حملے کیے، جن میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 40 معصوم شہری شہید ہوئے، جن میں 7 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جب کہ 121 افراد زخمی ہوئے جن میں 10 خواتین اور 27 بچے بھی شامل ہیں۔ بھارتی بربریت کے جواب میں پاک فوج کی جوابی کارروائی فوری طور پر کی گئی، جس دوران 11 بہادر جوانوں نے شہادت کا جام نوش کیا، جبکہ 78 فوجی زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق وطن پر قربان ہونے والوں میں نائیک عبدالرحمان، لانس نائیک دلاور خان، لانس نائیک اکرام اللہ، نائیک وقار خالد، سپاہی محمد عدیل اکبر، اور سپاہی نثار شامل ہیں۔ فضائیہ کے اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف، چیف ٹیکنیشن اورنگزیب، سینئر ٹیکنیشن نجیب، کارپورل ٹیکنیشن فاروق اور سینئر ٹیکنیشن مبشر بھی شہدا کی فہرست میں شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ شہدا کی قربانی ملک کے دفاع، عزم اور حب الوطنی کی روشن مثال ہے۔ قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ پاکستان کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت کو چیلنج کرنے والوں کو ہر صورت فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ قوم متحد ہے اور ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ قربانیاں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔
