Table of Contents
پاکستان میں 2024 کے دوران مقامی موبائل کمپنیوں نے 31.4 ملین موبائل فونز تیار یا اسمبل کیے، جس میں 59 فیصد یعنی 18.64 ملین یونٹس اسمارٹ فونز تھے، جبکہ 41 فیصد (12.74 ملین یونٹس) 2G فونز پر مشتمل تھے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر 2024 میں 2.95 ملین موبائل فونز مقامی طور پر تیار کیے گئے، جو ماہانہ بنیاد پر 28 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
چوتھی سہ ماہی 2024 میں مقامی موبائل تیاری 8.79 ملین یونٹس رہی، جو تیسری سہ ماہی کے 5.25 ملین یونٹس کے مقابلے میں 67 فیصد زیادہ ہے۔ پورے سال کے دوران 31.38 ملین موبائل فونز تیار ہوئے، جو 2023 کے مقابلے میں 47 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
یہ شاندار کارکردگی بنیادی طور پر درآمدی پابندیوں اور مقامی سطح پر تیاری کی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ حکومت نے مقامی انڈسٹری کی ترقی کے لیے موبائل فونز کی درآمد پر سخت کنٹرول اور درآمدی موبائل پر ٹیکسز میں اضافہ کیا، جس سے مقامی تیار کنندگان کو بہتر مواقع ملے۔
پاکستان میں اس وقت مقامی سطح پر 95 فیصد موبائل فونز کی طلب پوری کی جا رہی ہے، جو کہ پچھلے 5 سال (2019-2023) کے 67 فیصد اوسط اور 8 سال (2016-2023) کے 47 فیصد اوسط کے مقابلے میں بہت بڑی کامیابی ہے۔
اسمارٹ فونز کی بڑھتی ہوئی طلب
مقامی سطح پر تیار کیے گئے 59 فیصد اسمارٹ فونز کی طلب میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات، سستی قیمتوں پر دستیابی، اور ڈیجیٹل سہولتوں کا بڑھتا ہوا رجحان شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی موبائل انٹرنیٹ کی سستی سہولیات نے بھی اسمارٹ فونز کی طلب کو مزید بڑھایا ہے۔
روزگار کے مواقع اور معیشت پر اثرات
مقامی موبائل فونز کی تیاری سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ نہ صرف ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے، بلکہ موبائل انڈسٹری میں مقامی سرمایہ کاری بھی بڑھی ہے۔
مستقبل کے امکانات
مقامی سطح پر موبائل فونز کی تیاری کا رجحان مستقبل میں بھی بڑھتا رہے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ مزید سرمایہ کاری کرے گا، جس سے مقامی انڈسٹری مزید مضبوط ہوگی اور ملک خود کفالت کی راہ پر گامزن ہوگا۔
