لاہور: ملک بھر میں جاری انٹرنیٹ کی بندش کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ اس درخواست کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شکیل احمد کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ درخواست گزار ندیم سرور نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور دیگر کو فریق بنایا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بغیر کسی نوٹس اور وضاحت کے ملک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کی بندش کی گئی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش کو کالعدم قرار دیا جائے اور ملک بھر میں انٹرنیٹ کو فوری اور مکمل طور پر بحال کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار میں 30 سے 40 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو کہ انٹرنیٹ سرور پرو وائیڈرز ایسوسی ایشن کے مطابق، فائر وال کی تجرباتی تنصیب کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ انٹرنیٹ فائر وال کی تنصیب کا دوسرا ٹرائل کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے اور آئندہ چند روز میں سوشل میڈیا سروسز معمول پر آ جائیں گی۔
وزیر مملکت برائے آئی ٹی، شزہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ فائر وال کا مقصد سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے اور یہ عمل پوری دنیا میں رائج ہے۔