فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ یحییٰ السنوار کو حماس کے سیاسی دفتر کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد کیا گیا، جو 31 جولائی کو تہران میں اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔
یحییٰ السنوار اس سے قبل غزہ میں حماس کی سربراہی کر رہے تھے اور انہیں حماس کے سیاسی ونگ اور عزالدین القسام بریگیڈ کے درمیان روابط قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔
یحییٰ السنوار کون ہیں؟ یحییٰ السنوار 19 اکتوبر 1962 کو خان یونس کے ایک کیمپ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے غزہ کی اسلامک یونیورسٹی سے عربی میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی اور یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ کونسل میں خدمات انجام دیں۔
سنوار کی مسلح جدوجہد اور طویل گرفتاری کی وجہ سے ان کی شادی میں تاخیر ہوئی اور 2011 میں اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد ان کا نکاح غزہ کی ایک مسجد میں ہوا۔
2017 میں یحییٰ السنوار کو غزہ میں حماس کے سیاسی ونگ کا سربراہ مقرر کیا گیا اور انہوں نے خلیل الحیا کو اپنا نائب مقرر کیا۔
2018 میں انہوں نے الجزیرہ پر اعلان کیا کہ حماس پرامن عوامی مزاحمت کی پالیسی اپنائے گی تاکہ حماس پر لگے دہشتگرد تنظیم کے ٹیگ کو ہٹایا جا سکے۔
2021 میں یحییٰ السنوار دوسری مدت کے لیے غزہ میں حماس کے سربراہ منتخب ہوئے اور انہیں حماس میں اسماعیل ہنیہ کے بعد دوسرا طاقتور ترین شخص مانا جانے لگا۔
حالیہ جنگ کے دوران یحییٰ السنوار نے اسرائیل کو پیشکش کی تھی کہ یرغمال بنائے گئے تمام اسرائیلیوں کے بدلے قید بنائے گئے تمام فلسطینیوں کو رہا کر دیا جائے، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔