یاسی ڈائیلاگ کرینگے ، مشروط مذاکرات نہیں ، حکومتی اتحاد 

0

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، ایک عمومی تاثر تھا یہ اتحاد زیادہ دیر نہیں چل سکے گا، مخالفین ہر جگہ بات کرتے تھے یہ حکومت چند دن کی بات پھر اندھیری رات۔ ایک سال بحرانوں، چیلنجز کا اکٹھے مقابلہ کیا، اختلاف رائے ہوتا ہے، ایک دوسرے کی بات کو سنا جاتا ہے، ایک دوسرے کی بات کو سننا جمہوریت کا حسن ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر چل رہے ہیں، سب نے مل کر اس کشتی کو آپریشنل رکھا ہے، میں تنہا کچھ نہیں ہوں، دنیا میں ایسا نہیں ہوا ابھی قانون اصل شکل میں نہیں آیا اس کو تین رکنی بینچ نے کہا نافذ العمل نہیں ہوگا۔ آج بار کونسلز ہماری محبت نہیں قانون کی عمل داری کی بات کر رہی ہیں۔ بار کونسلز نے بھی کہا غلط فیصلہ ہوا۔ اس حوالے سے بھی اتحادی حکومت نے بہت معاونت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادیوں میں کبھی بات مان لی جاتی ہے کبھی منوائی جاتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی آخری شرط دوست ممالک سے فنانسنگ تھی۔ آرمی چیف نے اس سلسلے میں بے پناہ کاوشیں کیں جو ناقابل بیان ہیں۔ جبکہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکمران جماعتوں کے اجلاس سے متعلق میڈیا قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔ حکمران جماعتوں کے اجلاس میں مشاورت کی گئی۔

اعلامیے سے قبل ہی مختلف جماعتوں سے منسوب خبریں چلانا افسوسناک ہے۔ تمام جماعتیں معاملے پر اپنی آرا دیتی ہیں انکی روشنی میں فیصلے ہوتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں حکومتی اتحاد کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سیاسی مذاکرات ہوں گے مگر مشروط ڈائیلاگ قبول نہیں-

حکمران اتحاد نے کسی بھی سیاسی فریق سے مشروط مذاکرات کو یکسر مسترد کر دیا۔ جے ےو آئی اور جمہوری وطن پارٹی کی طرف سے پی ٹی آئی کے ساتھ مذا کرات کی مخالفت کی گئی۔

جبکہ پی پی پی کی جانب سے قومی ڈائےلاگ شروع کرنے کی وکالت کی گئی اور بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی کی ٹیم نے اب تک جو سےاسی جماعتوں سے بات چیت کی ہے اس کے اشارے بہت مثبت ہہیں۔

رائے منقسم ہونے کی وجہ سے اجلاس میں واضح پےشرفت سامنے نہ آ سکی ، وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والا اتحادیوں اور پی ڈی ایم رہنماﺅں کا اجلاس ختم ہوگیا، جس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ وزیراعظم نے موجودہ سیاسی صورتحال پر اتحادی رہنماں سے بات چیت کی۔

اسلام آباد نوائے وقت کی رپورٹ کے مطابق – اجلاس میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی جانب سے سیاسی جماعتوں سے جاری رابطوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے سراج الحق سے بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اجلاس کے شرکا کو حکومتی اتحادیوں کے درمیان ہونے والے رابطوں اور ملاقاتوں پر بھی بریفنگ دی گئی، حکمران اتحاد نے ملک کی خاطر بے لوث اور بامقصد بات چیت کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے کسی بھی سیاسی فریق سے مشروط مذاکرات کو یکسر مسترد کر دیا۔ اجلاس میں حکومتی اتحادیوں نے عمران خان کے رویے کو ہٹ دھرمی قراردیتے ہوئے کہا کہ قوم میں نفرتیں پھیلانے والے مذاکرات میں بھی سنجیدہ نہیں۔

اجلاس میں حکومتی اتحاد نے موقف اپنایا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں، آگے بڑھنے کیلئے کسی کو بھی شرائط طے نہیں کرنی چاہئیں۔ ذرائع کے مطابق حکومتی اتحادی جماعتوں نے اقتدارکا ایک سال مکمل ہونے پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی سے منظورکردہ قوانین سینٹ سے منظور کرانے کا فیصلہ کر لیا۔

اتحادی جماعتوں کے رہنماﺅں نے وزیراعظم کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا جبکہ ملکی معاشی حالات پر اتحادی اور پی ڈی ایم رہنماں نے تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں عدالتی امور پر بھی اجلاس کو قانونی ٹیم کی تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس کے شرکاءنے قانونی ٹیم کی کاوشوں کوسراہا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں جے یو ائی (ف) نے موقف اپنایا کہ عمران خان کوئی سیاسی قوت نہیں- اس لئے ہم پی ٹی آئی سے ڈائیلاگ کی مخالفت کرتے ہیں، شاہ زین بگٹی نے بھی کہا کہ ہم ڈائیلاگ کے عمل کے مخالف نہیں تاہم عمران خان ایک جھوٹا انسان ہے، جو بھروسے کے لائق نہیں۔
اس موقع پر وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن سے مذاکرات کے معاملے پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے دروازے بند کر لینا نہ صرف ہمارے اصولوں کے برخلاف ہے بلکہ یہ غیرجمہوری اور غیرسیاسی بھی ہے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کر کے ملک کو بحران سے نکالا جائے۔ چھوٹی جماعتوں نے بھی مذاکرات کے حوالے سے بلاول بھٹو کے مو¿قف کی حمایت کی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں علاج کی سہولیات کے باقاعدہ آغاز کا افتتاح کر دیا۔

منگل کو وزیراعظم نے انسٹی ٹیوٹ کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور علاج معالجہ کی سہولیات کا جائزہ لیا۔

وزیراعظم نے مریضوں سے بھی ملاقات کی اور ان سے ان کی خیریت اور علاج کی سہولیات بارے دریافت کیا۔ ڈاکٹرز سے وزیراعظم نے ہسپتال میں مختلف امراض کے علا ج کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر وزیراعظم کو صوبائی سیکرٹری صحت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ شمالی پنجاب میں علاج کے اس نئے مرکزکا قیام خوش آئند ہے، 2009ءمیں اس ہسپتال کی منظوری دی گئی تھی اور یہ 255 بستروں پر مشتمل ہے، یہاں پرراولپنڈی، شمالی پنجاب اور دیگر علاقوں کے لوگوں کو علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، پہلے مرحلے میں ہسپتال میں ایمرجنسی سروسز کا آغاز ہورہا ہے اور یہاں پر ریڈیو تھراپی، یورالوجی، بلڈ بینک، ڈائیلاسز، پتھالوجی، ایمرجنسی، ٹرانسپلانٹیشن، نفرالوجی اور اوپی ڈی سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

دوسرے مرحلے میں رہائشی عمارات تعمیرکی جائیں گی۔ اب تک منصوبے پر5 ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ ہو چکی

ہے، منصوبے کی تکمیل کی مدت 30 جون 2024 تھی لیکن اسے رواں سال دسمبر سے قبل ہی مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیراعظم نے صوبائی سیکرٹری صحت احمد جاوید قاضی کوان کی شاندار خدمات پر داد دی اور کہا کہ انہوں نے میرے ساتھ 15 ،20 سال کام کیا ہے ، یہ انتہائی قابل اور ایماندار افسر ہیں، نیب اور نیازی گٹھ جوڑ نے قابل افسران کو جیلوں میں ڈالے رکھا ، یہ بھی نیب میں میرے ساتھ پیش ہوئے تھے۔ وزیراعظم نے راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو بھی بہترین انتظامات پر شاباش دی۔ اس موقع پرسابق رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی سالہا سال سے بند تھا لیکن وزیراعظم کی ہدایت پر فوری اس پر کام کا آغاز کیا گیا، وزیراعظم کی قیادت میں صحت کے شعبے میں بہت کام ہوا ہے،2008ء سے پہلے راولپنڈی میں صرف 25وینٹی لیٹرز تھے جن کی تعداد آج تقریباً 200 ہوگئی ہے۔ اسی طرح 20ڈائیلاسز مشینیں تھیں جن کی تعداد 100سے بڑھ گئی ہے، اسی طرح 75 سال میں یہاں پرایم آر آئی کی کوئی مشین نہیں تھی اب 4 مشینیں موجود ہیں، پہلے سالانہ 25 لاکھ ٹیسٹ ہوتے تھے اب پانچوں ہسپتالوں میں ٹیسٹ41 لاکھ تک پہنچ چکے ہیں۔ وزیر اعظم ہاو¿س میں ہونے والے اہم اجلاس میں اتحادی رہنماو¿ں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی

شرکاءکو آگاہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے اجلاس میں مذاکرات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں سے ہونے والی مشاورت سے متعلق بریفنگ دی۔ اتحادیوں نے عمران خان کے رویے کو ہٹ دھرمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم میں نفرتیں پھیلانے والے مذاکرات میں بھی سنجیدہ نہیں۔ اقتدار کو ایک سال مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا ایک سال کے دوران چیلنجز اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا گیا۔ قوم کو تنہا نہیں چھوریں گے۔ اجلاس میں عدالتی امور پر بھی قانونی ٹیم نے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس دوران قانونی ٹیم کی کاوشوں کو بھی سراہا گیا۔ وزیر اعظم نے فرداً فرداً تمام رہنماﺅں سے موجودہ سیاسی صورتحال پر ان کی رائے لی۔ تمام اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں عمران خان یا تحریک انصاف سے بیک ڈور رابطوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ قومی اسمبلی سے منظور کردہ قوانین آج سینٹ سے منظور کرائے جائیں گے۔

اتحادی جماعتوں میں اتفاق رائے کے بعد تحریک انصاف سے مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیرِاعظم

محمد شہباز شریف نے زور دیا ہے کہ آئیں مل کر قائد کا پاکستان بنانے کےلئے اکٹھے ہوجائیں۔ محمد شہباز شریف نے راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن ہسپتال میں شعبہ یورالوجی کی سروسز کا افتتاح کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کی تعمیر میں پانچ ارب روپے لگ چکے ہیں، مریضوں کا شاندار طریقے سے علاج کیا جا رہا ہے، ہسپتال میں تمام سہولیات دیکھ کر خوشی ہے، ہسپتال کا پہلا فیز آپریشنل ہو چکا ہے، پچھلی حکومت نے اس ہسپتال کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار نے انصاف کے نام پر سیاست کی دکان چمکائی تھی۔ کوئی بھی حکومت آئے یا جائے صحت کے منصوبوں کو روکنا نہیں چاہیے۔ عوامی خدمت کے منصوبوں میں سیاست کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، خدا کرے کہ ان منصوبوں کو ثاقب نثار جیسے لوگوں کی نظر بد نہ لگے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ آئیں ملک کو قائد و اقبال کا پاکستان بنانے کےلئے اکٹھے ہوجائیں، اللہ کا م لے کر آگے بڑھیں،

غربت، جہالت، بے روزگاری اور بیماری کا خاتمہ کریں، عوامی خدمت کے میدان میں سیاست شجر ممنوعہ ہونی چاہیے، تعلیم و صحت میں سیاست کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سابق چیف جسٹس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ثاقب نثار غریب کو انصاف کیلئے نہیں سیاسی دکان چمکانے کیلئے عدالت لگاتے تھے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ثاقب نثار غریب کو انصاف کے لئے نہیں سیاسی دکان چمکانے کیلئے عدالت لگاتے تھے۔ ثاقب نثار حنیف عباسی کو شکست دلانے کیلئے شیخ رشید کے ایجنٹ بن کر حلقے میں گئے۔ عوامی خدمت کے میدان میں سیاست کو شجرہ ممنوعہ قرار دینا چاہئے‘ تعلیم اور صحت کے میدان میں سیاست کی قطعاً اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا، جس میں مرحوم وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور کے حادثے میں انتقال پر رہنماﺅں کی جانب سے اظہار افسوس کے ساتھ دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ وزیراعظم ہاﺅس میں ہونے والے اہم اجلاس میں اتحادی رہنماﺅں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی شرکاءکو آگاہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی نے اجلاس میں مذاکرات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں سے ہونے والی مشاورت سے متعلق بریفنگ دی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، ایک عمومی تاثر تھا یہ اتحاد زیادہ دیر نہیں چل سکے گا، مخالفین ہر جگہ بات کرتے تھے یہ حکومت چند دن کی بات پھر اندھیری رات۔ ایک سال بحرانوں، چیلنجز کا اکٹھے مقابلہ کیا، اختلاف رائے ہوتا ہے، ایک دوسرے کی بات کو سنا جاتا ہے، ایک دوسرے کی بات کو سننا جمہوریت کا حسن ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر چل رہے ہیں، سب نے مل کر اس کشتی کو آپریشنل رکھا ہے، میں تنہا کچھ نہیں ہوں، دنیا میں ایسا نہیں ہوا ابھی قانون اصل شکل میں نہیں آیا اس کو تین رکنی بینچ نے کہا نافذ العمل نہیں ہوگا۔ آج بار کونسلز ہماری محبت نہیں قانون کی عمل داری کی بات کر رہی ہیں۔ بار کونسلز نے بھی کہا غلط فیصلہ ہوا۔ اس حوالے سے بھی اتحادی حکومت نے بہت معاونت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادیوں میں کبھی بات مان لی جاتی ہے کبھی منوائی جاتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی آخری شرط دوست ممالک سے فنانسنگ تھی۔ آرمی چیف نے اس سلسلے میں بے پناہ کاوشیں کیں جو ناقابل بیان ہیں۔ جبکہ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکمران جماعتوں کے اجلاس سے متعلق میڈیا قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔ حکمران جماعتوں کے اجلاس میں مشاورت کی گئی۔

اعلامیے سے قبل ہی مختلف جماعتوں سے منسوب خبریں چلانا افسوسناک ہے۔ تمام جماعتیں معاملے پر اپنی آرا دیتی ہیں انکی روشنی میں فیصلے ہوتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.