کشمیریوں کی غلامی کے 76 برس

0

2023 شروع ہو چکا۔ کشمیریوں کی غلامی کے 76 برس اور آزاد کشمیر کی ٹیم آزادی کے 76 برس ایک طویل وقت تین نسلیں گزر چکیں کہ آزادی کے خواب آنکھوں میں سجائے قبر کی مٹی اوڑھ چکے کہ جو انتظار میں ہیں اور کچھ میرے جیسے جھیل ڈھیل اور اس کے نظاروں کو دیکھنے کی چاہ میں ہیں لیکن آزادی کی غزل تا حال کے قریب آئی محسوس ہوتی رہتی ہے ہماری نیم آزادی اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی غلامی کے 76 سال مکمل ہونے والے ہیں قوم اک ہے لیکن خونی لکیر کے دونوں طرف حالات بالکل مختلف ہیں وہ قربانیوں کی عظیم داستان رقم کر رہے ہیں اور ہم بے بسی کی وہ دن رات کٹ مرہے ہیں اور ہم اقوام متحدہ اور دیگر اداروں میں سوائے احتجاج ریکارڈ کرانے کے اس جشن میں آگے بڑھ کر اور کچھ نہیں کر رہے ہم بحیثیت آزاد قوم اپنی صحیح شام میں زندگی کی تمام رعنائیوں اور خوبصورتیوں سے اپنا حصہ کثیر کر رہے ہیں۔

جبکہ مقبوضہ وادی کی عوام جد و جہد کی طویل میر تمر آز مار در و برداشت کر رہے ہیں جس کی شام ابھی دکھائی نہیں دیتی۔ اگر ہم اپنی تاریخ کشمیر پر نظر ڈالیں تو ہم صدا غلام نہیں رہے ہم نے صدیوں تک دو سلاطین دیکھا ہے غلامی کی سیاہ رات تو انگریز سکھ اور ڈوگروں کے قبضہ کے بعد شروع ہوئی اور مہاراجہ نے اس سیاہ دور کے اطلاق بھارت کے ذریعے تنا طویل کر دیا کہ اس کی طلوع نہیں ہوتی بحیثیت مسلمانوں قوم کشمیریوں نے 47 میں سیاسی پلیٹ فارم سے الحاق پاکستان کا عندیہ دیا تھا۔

پاکستان کی آزاد کے بعد آزادکشمیر کے غیور عوام نے عملا عسکری جدو جہد کے ذریعے آزاد کشمیرکو آزاد کروالیا۔ زرا سوچیے اس وقت ذرائع کتنے محدود تھے لیکن پھر بھی کشمیر یوں نے عملاً جد و جہد کو چنا لیکن آج ہم پر سہولت کے ہوتے علا جہدوجہد کی طرف نہیں بڑھ ر ہے میں خاص طور پر اس کتہ پر توجہ چاہتی ہوں کہ آج تک کوئی قوم علامتی احتجاج سے آزادی کی منزل حاصل نہیں کرسکی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان مقام بدر تشریف لے گئے تلور اراٹھائی تو فرشتے بھی مد کو بھیجے گئے۔

اگر مدینہ میں بیٹھ جاتے اور یہ خواہش رکھتے کہ مقام بدر پر صرف فرشتے کفار کا مقابلہ کریں تو یہ ناممکن تھا قوموں کی ترقی و کامیابی عملاً جہدو جہد کی مرہون منت ہے تاریخ اْٹھا کر دیکھیں تحریک پاکستان میں سر سید نے تعلیمی تحریک کے لیے وقت پیشہ اور اپناسب کچھ قربان کیا قائداعظم اور دیگر عظیم قائدین نے دن رات عملاً جد و جہد کی تو حصول پاکستان ممکن ہوا۔

قائد اعظم عمل پر یقین رکھتے تھے آپ کا قول بھی ہے کام کام اور کام ہم کشمیریوں کو عملاً جہاد کا حصہ بننا ہو گا صرف علامتی طور پر دن منا لینے سے تقریبات کا انعقاد کر لینے سے ہاتھوں کی زنجیر بنانے سے کیا ثمرات حاصل ہوں گئے تحریک آزادی کو کیا فوائد میں گئے سرحد پر کشمیریوں پر ظلم رک جائیں گئے گولیاں برسانی بند کر دیں گئے جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا دن منانے پر قومی خزانے سے بے دریغ روپیہ خرچ ہو گا کچھ تصور میں بنیں گی کچھ اخباروں میں سرخیاں لگیں گی اور اگلے دن ہم مذہبی زندگی میں مصروف ہو کر تحریک آزادی کو بھول بھٹیں گئے۔ دشمن کے خلاف کامیابی کا صرف ایک راستہ ہے۔ جہاداور صرف جہاد ہمیں اپنی آنے والی نسل کو ٹک ٹا کر برگر بیچنے نہیں بلکہ جہادی بنانا ہوگا مجاہد بنانا ہوگا اسلام کی خاطر قربانی دینے والا اسلام کے اصولوں پر چلنے والا بنانا ہوگا مسلمانوں کی کامیابی کا راستہ عملاً جد و جہد عملاً جہاد عملاً کام کا راستہ ہے ہمیں محمد قاسم اور صلاح الدین ایوبی جیسے کردار کی نسل پروان چڑ ھانی ہوگی۔

ہمیں اپنی آنے والی نسل کی تربیت ایسے کرنی ہوگی اور ایسا لائحہ عمل بنانا ہوگا کہ آنے والی نسل صرف یہ دن منانے پر اتنا نہ کرے بلکہ عملاً جد و جہد کے ذریعے ارض کشمیر کو آزاد کر وائے تا کہ ہم حقیقی معنوں میں آزاد قوم کہلا سکیں ہم ہر سال کشمیر کے حوالے سے تمام دن خاص طور پر یوم یکجہتی کشمیر مناکر سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہو گیا اپنے ضمیر سے سوالی کریں کہ یقینا فرض ادا ہو جاتا ہے؟ کیا ہماری زمہ داری بس اتنی سی ہے؟ کیا عملاً جد و جہد کیا جہاد و قتال ہمارے منزل نہیں۔ کیا میرا آپ کا پوری آزاد کشمیر کے عوام اور حکومت آزاد کشمیر کا بس اتناہی فرض ہے علامتی احتجاج؟؟؟

تحریر: فرحت گیلانی لیکچرار تاریخ

Leave A Reply

Your email address will not be published.