آزاد جموں وکشمیر الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات 2022 کے لیے ضابطہ اخلاق برائے پولنگ ایجنٹس

0

آزاد جموں وکشمیر الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات 2022 کے لیے ضابطہ اخلاق برائے پولنگ ایجنٹس و پولنگ ایجنٹ کے لیے ہدایات جاری کر دی-

پولنگ ایجنٹ کو چاہیے کہ وہ انتخابی عمل متعلقہ قواعد اور ضابطہ اخلاق سے اچھی طرح شناسائی حاصل کر لے تا کہ اس کو پولنگ اسٹیشن پر اپنے فرائض بطریق احسن سرانجام دینے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔

پولنگ اسٹیشن میں داخلے کے لئے بیضروری ہے کہ پولنگ ایجنٹ کے پاس اپنے امیدوار یا اس کے الیکشن ایجنٹ کی طرف سے جاری کردہ اختیار نامہ، پیچ اور اصلی قومی شناختی کارڈ موجود ہو ۔ ان کا غذات کے بغیراسے پولنگ اسٹیشن میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

پولنگ کے دن پولنگ ایجنٹ ہمہ وقت اپنے پیج کو اپنے سینے پر نمایاں طور پر آویزاں کرے گا جس میں اس کا نام ، امید وار کا نام ،اس کا قومی شناختی کارڈ نمبر، وارڈ کا نمبر و نام اور پولنگ اسٹیشن کا نمبر و نا ملکھا ہو اور یہ پیج کسی بھی صورت میں امیدوار کی پارٹی کی عکاسی نہیں کرے گا۔

پولنگ ایجنٹ پولنگ اسٹیشن کے اندر یا باہر 400 میٹر کی حدود میں کسی ووٹر کو اپنے امیدوار کے لئے ووٹ ڈالنے کی التجانہیں کمر میں گے۔

پولنگ شروع ہونے سے قبل جب پر یذائیڈنگ افسر خالی پیٹ باکس کا معائنہ کروادے تو پولنگ ایجنٹ کو چاہیے کہ وہ پولنگ شروع ہونے سے پہلے بیلٹ باکس کا معائنہ کر کے اپنے دستخط کرے اور اس کے سامنے اپنا نشان انگوٹھا لگاۓ۔

 پولنگ ایجنٹ کسی ووٹر پر اس بنیاد پر اعتراض کرسکتا ہے کہ وہ ای یا کسی دوسرے پولنگ اسٹیشن پر پہلے سے ووٹ ڈال چکا ہے یاوه خت و دو ورنہیں ہے جس کا نام انتخابی فہرست میں درج ہے۔ پولنگ ایجنٹ کو چاہیے کہ اپنا پورا اطمینان کرنے کے بعد یہ معاملہ پریذائیڈنگ افسر کے علم میں لانے اور پریذائیڈنگ افسر کے سامنے اس کا عہد کرے کہ وہ اس بات کو عدالت میں ثابت کرے گا۔ اس طرح کے ہراعتراض کے لئے پولنگ این مبلغ 05) روپے میں پریذائیڈنگ افسر کے پاس جمع کرا کے رسید حاصل کرے گا۔

پولنگ ایجنٹ صرف ایسے شخص پر اعتراض کرے گا جس کے متعلق اسے پورا یقین ہو کہ دراصل دور نہیں ہے۔ بلاوجہ ہر ووٹر پر اعتراض کرنے سے مل گریز کرے گا۔ کیونکہ اس طرح انتخابی عمل میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے جس کی اجازت نہیں ہوگی۔

اگر پولنگ ایجنٹ کسی پولنگ اسٹیشن میں کوئی بے ضابلی ہوئی دیکھے تو اس پر وہ اعتراض ضرور اٹھائے لیکن پولنگ ایجنٹ کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنا اعتراض د ے لے اور مہذب انداز میں پیش کرے۔

بینائی سے محروم اور دیگر معذور افرادکو قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی مدد کے لئے اپنا ایک ساتی پولنگ بوتھ کے اندر لے جا سکتے ہیں تا کہ وہ بیلٹ پیپر پرنشان لگانے کے لئے اس کی مدد کرے۔ تاہم قانون مزید کہتا ہے کہ امیدوار الیکشن ایجنٹ یا پولنگ ایجنٹ ووٹر کی مدد کے لئے اس کے ساتھ نہیں جاسکتے۔ لہذا وٹرکی اس طرح کی مدد پر پولنگ ایجنٹ اعتراض نہ کرے گا۔

پولنگ ایجنٹ کسی پریذائیڈنگ افسر پولنگ افسر یا ڈیوٹی پر تعین کی سیکورٹی اہلکار کی سرکاری امور کی انجام دہی میں کسی قسم کی مداخلت کرے گا اور نہ ہی اس کے کام میں کوئی رکاوٹ ڈالے گا۔

پولنگ ایجنٹ کسی پریذائیڈنگ افسر پولنگ افسریاڈیوٹی پر تعین کی سیکورٹی اہلکار یا پولنگ اسٹیشن پر

-متعین کسی بھی دیگرشخص کے خلاف کسی بھی قسم کا کوئی تشدد روانہیں رکھے گا

پلنگ ایجنٹ پر لازم ہے کہ وہ خواتین ووٹرز کا احترام کریں اور کوئی ایسی صورتحال پیدانہ کریں جس سے خواتین ووٹرز کو اپنا ووٹ ڈالنے میں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے

جب پولنگ افسرکسی وٹر کا انتخابی فہرست با میں نمبر اور نام با آواز بلند پکارے تو پولنگ ایجنٹ اسے دھیان سے سنے کا پابند ہوگا تاکہ وہ اپنی انتخابی فہرست کی کاپی سے اس ووٹر کا نام کاٹ سکے

پولنگ ایجنٹ کسی طور پر بھی ایسی صورتحال پیدا کریں جو انتخابی عمل میں رکاوٹ کا باعث بنیں یا جس سے پولنگ اسٹیشن پر امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو۔

پولنگ ایجنٹ لازمی طور پر ووٹ کی رازداری کو برقرار رکھے گا اور کسی بھی قیمت پرایسے عمل میں معاون نہیں ہوگا جس سے ووٹ کی راز داری متاثر ہو۔

قانون کے مطابق پریذائیڈنگ افسر اگر ضروری تھے تو اپنی مرضی سے یا انتقالی امیدوار ایشن ایجنٹ یا پولنگ ایجنٹ کی درخواست پروٹوں کی دوباره تی کرسکتا ہے پولنگ ایجنٹ اس میں رکاوٹ نہ بنے گا۔

تاہم پریذائیڈنگ افسر صرف ایک دفع دوبارہ گنتی کا اختیار رکھتا ہے۔ لہذا پریذائیڈنگ افسراگرایک دفعہ دوبارہ گنتی کرلے تو پولنگ ایجنٹ مزیدگنتی پر اصرار نہیں کرے گا۔

جب پریذائیڈنگ افسر درخواست کرے تو پولنگ ایبنٹ پریذائیڈنگ افسر کے تیار کردہ فارم نمبر XVI1(گنتی کا گوشواره) اور فارم نبرXX( بیلٹ پیپراکاؤنٹ پر اپنے دستخط کرے گا۔

ولنگ ایجنٹ لازمی طور پر پریذائیڈنگ افسر سے فارم نبر XVII( مفتی کا گوشواره) اور فارم نمبر Xx(بیلٹ پیپراکاؤنٹ ) کی کاپی حاصل کرے گا اور اسے ان کا پہیوں کی وصولی کی رسید دینے کاپابند ہوگا۔

پولنگ ایجنٹ پریذائیڈنگ افسر کے کہنے پرفارم نمبر XII(ئینڈرووٹ لسٹ ) اور فارم نمبر XIV(چیلنجڈ ووٹ لسٹ ) پربھی اپنے دستخط کرے گا۔

پولنگ ایجنٹ پریذائیڈنگ افسر کے تیارکردہ اور سیل کردہ لفافوں پر بھی اپنے دستخط کرے گا۔

پولنگ ایجنٹ اگر چاہے تو پریذائیڈنگ افسر کے تیار کردہ اورسیل کردہ لفافوں پراپنی سیل بھی لگا سکتا ہے۔

پولنگ ایجنٹ غیرضروری طور پر پریذائیڈنگ افسر پر جانبداران فیصلہ کرنے کا الزام لگائے گا اور نہ ہی دیگر بے بنیادالزامات عائد کرے گا۔

پریذائیڈنگ افسر اس امر کا پابند ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن پر پولنگ کی کارروائی قانون کے مطابق عمل میں لائے۔ لہذا پولنگ ایجنٹ پریذائیڈنگ افسر کے معاملات میں بے جا مداخلت سے مکمل گریز کرے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.